Masjid Ki Tamer

مسجد کی تعمیر

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سرور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:جوحلال مال سےمسجد بنائے گا اللہ عز وجل اس کے لئے جنت اور یاقوت کا گھربنائے گا ۔(طبرانی اوسط،4/17،رقم:5059) الحمدللہ عز وجل! تبلیغ ِقرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی تادمِ تحریر(محرم الحرم 1438ھ مطابق اکتوبر2016) اپنا مدنی پیغام دنیا کے تقریباً200سےزائدممالک میں پہنچا چکی ہے۔(اور الحمدللہ عز وجل! دعوتِ اسلامی 103سے زائد شعبوں میں سنّتوں کی خدمتوں میں مشغول ہے ۔انہی شعبوں میں سے ایک شعبہ ) خدام المساجد‘‘ہے ۔مسجد کو دینِ اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔یہ اللہ عز وجل کاگھر ہے،یہ قرآن وسنّت حاصل کرنےکابنیادی ذریعہ ہے، مسلمان یہاں انفرادی اوراجتماعی طور پر اللہ عز وجل کی عبادت کرتے ہیں ۔مساجد کی ضرورت کے پیشِ نظر عالمی مدنی مرکزکےبعدپہلی مسجدکنزالایمان تعمیر کی گئی اور اس کےبعد امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے چند اسلامی بھائیوں پر مشتمل ایک مجلس بنائی اور اس کا نام مجلس خدام المساجد رکھا اور ذہن دیا کہ پوری دنیا میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام مساجد بنائی جائیں۔ مجلس خدام المساجد مساجد کی جگہ خریداری اور وقف کے تمام معاملات شرعی ، قانونی اور تنظیمی تمام اصولوں کے مطابق کرتی ہے۔ الحمدللہ عز وجل! مجلس خدام المساجد اب تک سینکڑوں مساجدبنا چکی ہے اور مزید تعمیراتی مراحل میں ہیں موجودہ روزانہ کے حساب سے دنیا بھر میں دو 2 مساجد بنانے کاسلسہ جاری ہے۔

لہذا جن علاقوں یا شہروں میں مساجد کی ضرورت ہوتی ہے وہاں خدام المساجد کے ذمہ داراپنے نگران سےمشاورت اور دارالافتاءاہلسنت سے شرعی رہنمائی کے بعدپلاٹ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں ،بالخصوص نئے ٹاؤن اور کالونیز میں مسجد کی جگہیں حاصل کرکےتعمیراتی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر مسلمانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی راحت کا سامان کرتے ہیں۔ مجلس خدام المساجد کے تحت تعمیر ہونے والی یازیرتعمیر مساجد کی تصاویر مع تفصیل البم کی صورت میں موجود ہے۔مسجدکے پلاٹ کی خریداری سے لےکراس کی تعمیر و توسیع اور اشیاء کے حصول تک لاکھوں لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں۔یہ تمام اخراجات عاشقان رسول کی طرف سےدئیے جانےوالے عطیات سے پورے کئے جاتے ہیں۔آئیے مجلس خدام المساجد کے(ساتھ مل کراس کار خیرمیں حصہ لیں اور دین دنیا کو بہتربنائیں)۔