امیر اہلسنت
بانیٔ دعوتِ اسلامی ،عاشق اعلیٰ حضرت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ تحریرفرماتے ہیں،”دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی جَیل خانوں میں بھی دھوم مچی ہوئی ہے الحمدللہ عزوجلَّ جَیل کے اندر دیگر تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ قیدیوں کیلئے تعلیمِ قراٰن اور شریعت کورس کا سلسلہ بھی ہے۔ جن کو پولیس کی مار اور کال کوٹھڑی کے تنگ و تاریک درو دیوار نہ سدھار سکے الحمدللہ عزوجل دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکات سے ایسوں کی اِصلاحات کے بھی واقِعات ہوئے ہیں۔ چُنانچِہ مشہور صوفی بُزُرگ بابا بُلّھے شاہ رحمۃ اللہ ِتعالی علیہ کے پاکیزہ خِطّے ضلع قُصُور ڈاکخانہ کُھڈیاں سے ایک اسلامی بہن نے کچھ اس طرح کی تحریر بھجوائی،” مجھے بیوہ ہوئے آٹھ سال گزر چکے ہیں میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ بُری صحبت کے سبب وہ لڑائی جھگڑوں کاعادی ہو گیااور مَنشیات فروشی کے دھندے میں پڑ گیا، سمجھاتی تو مجھے گالیاں دیتا اور مارتا ۔ آہ ! میرا لختِ جگر نظر کانور اور دل کا سُرور بننے کے بجائے میرے جگر کاناسُور بن گیا۔ کئی بار پولیس اُٹھا کے لے گئی، میں جُوں تُوں کر کے اُس کو چُھڑوا کر لاتی، کئی مقَدَّمے اُس پر قائم تھے۔ آخِر کار کسی مقدَّمے میں اُس کو سزا سنائی گئی اور وہجَیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا۔ تقریباً آٹھ ماہ کے بعد جب وہ ضَمانت پر رِہا ہو کر گھر آیا تویہ دیکھ کر میں حیران رہ گئی کہ آیا یہ خواب ہے یا حقیقت ! بات بات پر مجھے گالیوں سے نوازنے اور مار دھاڑ کرنے والا بد مزاج بیٹا آج میرے قدموں میں گر کر رو رو کر مجھ سے مُعافیاں مانگے جا رہا ہے۔
اتنے میں اذان مغرب کی صدا سے فضا گونج اٹھی اور وہ نماز پڑھنے کیلئے جانب مسجد روانہ ہو گیا۔ اس کے چہرے پر تقدس کا نور جھلک رہا تھا اور انداز میں بھی نمایاں تبدیلی تھی ،کل تک گالیاں بکنے والا نوجوان آج بات بات پر سبحان اللہ، الحمد للہ ، ماشاء اللہ اور ان شاء اللہ کہے جا رہا تھا ، اس کی زبان ذکرو درود سے تر تھی، عشاء کی نماز با جماعت ادا کرنے کے بعد مسجد سے واپس آ کر وہ جلد ہی لیٹ گیا، میں بھی سو گئی ۔ رات تقریبا دو بجے جب میری آنکھ کھلی تو قریبی چارپائی پر سویا ہوا بیٹا غائب تھا! میں گھبرا کراٹھ بیٹھی کہ کہیں پھر واردات کرنے اور کسی کا گھر اجاڑنے تو نہیں چلا گیا! مگر جوں ہی صحن کی طرف نظر اٹھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ میرا بیٹا مصلی بچھائے خشو ع و خضوع کے ساتھ تہجدادا کر رہا ہے سلام پھیرنے کے بعد وہ رو رو کر رب کائنات کے حضور مناجات میں مشغول ہو گیا ۔
گناہوں سے مجھ کو بچا یا الہٰی
خطاؤں کو میری مِٹا یا الہٰی
تجھے واسطہ سارے نبیوں کا مولا
بُری خصلتیں بھی چُھڑا یاالہٰی
مِری بخش دے ہر خطا یا الہٰی
تُواِنگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر
مجھے سنّتوں پر چلا یا الہٰی
بیٹے کو روتا بِلکتا دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میں روتے روتے اپنے لال سے لپٹ گئی۔ کچھ دیر تک ہم ماں بیٹے ہِچکیاں لے کر روتے رہے ، جب اِفاقہ ہوا تو میرے اِستِفسار پر اُس نے اِس حیرت انگیز تبدیلی کے متعلق بتایا کہ الحمد للہ عزوجل مجھے جَیل میں تبلیغ قران و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آ گیا، جَیل کے اندر دعوتِ اسلامی کے مبلغینباقاعدہ قران پاک وُضُو ، نَماز، اورسنتیں سکھاتے اور دُعائیں یا د کرواتے ہیں۔ عاشِقانِ رسول کی انفِرادی کوشش سے میں گناہوں سے تائب ہوا۔ یہ باتیں سُن کر میرا دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ ہوگیا۔ میں دعوتِ اسلامی والوں کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے نافرمان، جرائم پیشہ اورمَنِشیات کے عادی بیٹے کو اِصلاح کاسامان فراہَم کیا۔ دعوتِ اسلامی کا مجھ دکھیاری ماں پر اور ہمارے خاندان پر عظیم احسان ہے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ عزوجل تمام غمزدہ ماؤں کے اُن اَسیر بیٹوں کو جو جیلوں کے اندر ہیں دعوتِ اسلامی کامدنی ماحول نصیب کرے تا کہ وہ جرائم سے منہ موڑ لیں اور سنتوں سے رشتہ جوڑ لیں۔”
بُری خصلتیں بھی چُھڑا یاالہٰی
مِری بخش دے ہر خطا یا الہٰی
تُواِنگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر
مجھے سنّتوں پر چلا یا الہٰی
