About us

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ اور سیرت ِبزرگان دین کی کتب کے مطالعے سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ کئی ایسی بزرگ ہستیاں جن کا ذکرکرنا سعادت مندی سمجھا جاتا ہے، ان کے مقامِ ولایت کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہونے سے پہلے کے واقعات کو بطورِ درس ونصیحت متعدد کتب میں بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان سے درس حاصل کریں اور اپنی قبر وآخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائیں،انہیں اولیا ء اللہ میں حضرت سیّدناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃاللہ الاکرم،حضرت سیّدنابشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی،حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ اورحضرت سیدنامالک بن دینا ر علیہ رحمۃاللہ الغفار جیسی بلندپایہ ہستیاں بھی شامل ہیں۔ شیخ طریقت، امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے حضرت مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفارکی زندگی میں برپا ہونے والے ایمان افروز واقعے کواپنے رسالے ‘‘نیک بننے کا نسخہ’’ میں نقل فرمایاہے، جس کی برکت سے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا،راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے صراط مستقیم کے مسافر بن گئے اوربے شمار لوگوں کے دلوں میں خوف خدااور عشق مصطفی کی شمع روشن ہوگئی۔ اسی طرح آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ لو گ یاد الہٰی سے یکسر غافل ہوتے چلے جارہے ہیں، دنیا ہی کے حصول کو مقصد حیات سمجھ بیٹھے ہیں،اسی کی طلب میں اپنی زندگی کے انمول لمحات کو ضائع کررہے ہیں اور فیشن پرستی کے طوفان نے امت مسلمہ کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے ایسے نازک حالات میں امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے بزرگان دین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیکی کی دعوت کو عام کرنے کابیڑا اٹھایااور آپ نے اپنے پرسوز بیانات،عمل وکردار سے لاکھوں لاکھ مسلمانوں کی زندگیوںمیں مدنی انقلاب بر پا کردیا۔وقتافوقتا اسلامی بھائی اپنی زندگیوں میں رونما ہونے والی تبدلیوں کے واقعا ت کو دیگر مسلمانوں کی ا صلاح کے جذبے کے تحت دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مر کز فیضان مدینہ میں ارسال کرتے رہتے ہیں جس کے پیش نظرمجلس المدینۃالعلمیہ کے تحت ایک ‘‘شعبہ امیرِ اہلسنّت’’ کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں ان موصول ہونے والے واقعات کو بزرگان دین کی پیروی کرتے ہوئے عبرت کے لیے نوک پلک سنوار کر رسالے کی صورت میں شائع کرنے کااہتمام کیا جاتا ہے، اب تک سینکڑوں اسلامی بھائیوں کی زندگیوں میں برپا ہونے والے انقلاب کی مدنی بہاریں شائع ہوچکی ہیں اور بہت سی مرتب ہونے کے مراحل میں ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بدولت بھی کئی نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب بر پا ہورہا ہے۔ اس طرح کی بہت سی بہاریں موصول ہوتی رہتی ہیں کہ معاشرے کے کئی نوجوانوں نے جب کوئی مدنی بہار سنی یاپڑھی تو انہوں نے گناہوں بھرے ماحول کو چھوڑا اور دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بہاریں بھی بہارلارہی ہیں آئیے بہاروں کی اہمیت وافادیت پر ایک ایسی ہی مدنی بہارملاحظہ فرمائیے :

ایک نومسلم اسلامی بھائی (سابقہ آتش پرست) جہانگیر عطاری کے بیان کا لُبّ لُباب ہے کہ دامنِ اسلام میں آنے سے قبل میں فلم انڈسٹری سے وابستہ تھااگر چہ میں مدنی چینل پر شیخ طریقت ،امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت بر کا تہم العالیہ کے سنّتوں بھرے بیانات اور مدنی مذاکروں کی برکت سے مسلمان ہوچکا تھا مگراداکاری کی گناہوں بھری دنیا چھوڑنے میں سخت آزمائش کا سامنا تھا، فقر وفاقہ اور بے روزگا ری کے خیالات مجھے پریشان کیے ہوئے تھے مگر جب میں نے سابقہ گلوکار موجودہ ثناخوانِ رسول جنید شیخ عطاری جن کی مدنی بہار شیخ طریقت امیر اہلسنّت دامت بر کا تہم العالیہ نے اپنے رسالہ‘‘قبر کی پہلی رات’’ میں بھی ذکر فرمائی ہے جسے سن کر مجھے کافی حوصلہ ملا اور میں فلم انڈسٹری کو تین طلاقیں دے دیں اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا سبز عمامے کا تاج سجالیااور داڑھی شریف سے چہرہ روشن ومنور لیا ،مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادم تحریر دعوت اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشاں ہوں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ مدنی بہار کی وجہ سے ایک نومسلم اداکاراسلامی بھائی کی زندگی میں عمل کی کس طرح بہار آئی اور دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر سنّتوں بھری زندگی گزارنے کی سعادت حاصل کرنے لگے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس طرح کی بہت سی مدنی بہاریں ہیں،واقعی کس قدر خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی جن کی زندگیوں میں برپا ہونے والے واقعات کسی مسلمان کی اصلاح کا سبب بن جائیں۔آپ بھی ہمت کیجیے اور شیطان کے وارکو ناکام بناتے ہوئے اپنی زندگی میں رونما ہونے والی مدنی بہار لکھ کر شعبۂ مدنی بہارکو ارسال فرمائیں تاکہ آپ کی بہار کسی رسالے کی زینت بنے، کیا بعید اگرآپ کی بہار کو پڑھ یاسن کر کسی مسلمان کا دل چوٹ کھاگیا اور وہ دعوت اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہوکر قراٰن وسنّت کی راہ پر گامزن ہوگیاتو جہاں اس کی اپنی قبر وآخرت بہتر ہوگی وہیں آپ کے لیے بھی ایک صدقہ جاریہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ان شآءاللہ عَزَّوَجَلَّ

مدَنی بہاروں کی اہمیّت

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر انسان کو فطرتِ سلیمہ پر پیدا فرمایا ہے اور اُسے قلبِ سلیم کی نعمت سے نوازا ہے مگر ماں باپ سے ملنے والی تربیت، اساتذہ اور معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی صحبت اُسے نکھار دیتی ہے یا بگاڑ دیتی ہے۔ فی زمانہ اچھی صحبتیں کمیاب اور بری صحبتیں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ مختلف گناہوں میں گرفتار اور قرآن و سنّت سے غفلت کا شکار نظر آتے ہیں مگربارہا دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی بیدار دل شخص انہیں ان کی غلطی سے آگاہ کرتا اور انہیں زندگی کے مقصد سے آشنا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے تائب ہو جاتے اور توشۂ آخرت جمع کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ کتابوں میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن میں بیان کردہ بے عملی کے ہولناک نتائج کے تذکرے سن کر بہت سو کی تاریک زندگیوں میں نیکیوں کا اجالا ہوگیا۔ فکرِ آخرت کی سوچ پیدا ہوگئی اور رِضائے الٰہی والے کاموں کا جذبہ نصیب ہو گیا۔ ایسے واقعات علما نے نقل کیے اور صالحین نے بیان کیے تاکہ اس کے پڑھنے اور سننے والوں کی اصلاح کا سامان ہو سکے ۔ ان میں سے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

حضرت سَیِّدُنا صالح مُرِّی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی ایک محفل میں وعظ فرما رہے تھے کہ اسی دوران آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے سامنے بیٹھے ایک نوجوان سے فرمایا: کوئی آیت پڑھو۔ اس نے یہ آیت تلاوت کی، ترجمہ کنزالایمان: اور انہیں ڈراؤ اُس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے ۔ اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔ (پ۲۴،المؤمن:۱۸)

یہ آیت سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: کوئی کیسے ظالم کا دوست یا مدد گار ہوسکتا ہے؟ کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہو گا۔ بے شک تم سرکشی کرنے والے گنہگاروں کو دیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ ننگے پائوں ہوں گے، ان کے جسم بوجھل، چہرے سیاہ اور آنکھیں خوف سے نیلی ہوں گی۔ وہ پکار کر کہیں گے’’ ہم ہلاک ہو گئے! ہم برباد ہوگئے! ہمیں کیوں جکڑا گیاہے، ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟‘‘ فرشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے ہانکیں گے، کبھی وہ منہ کے بل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے توخون کے آنسو رونا شروع کر دیں گے، ان کے دل دہل جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے۔ اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے گا، نہ دل کو سنبھال سکے گا اوریہ ہولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے گا ۔

یہ کہنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مُرِّی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی بہت روئے اور آہ بھر کر کہنے لگے، افسوس! کیسا خوفناک منظر ہوگا۔ یہ کہہ کر پھر رونے لگے، ان کو روتا دیکھ کر لوگ بھی رونے لگے ۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا، حضور! کیا یہ سارا منظر بروزِ قیامت ہوگا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا، ہاں! اور یہ منظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی۔ یہ سن کر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا، افسوس! میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا، افسوس! میں اپنے پرورد گار عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت میں سستی کرتا رہا، آہ! میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔ اور رونے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ کہنے لگا، اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے تیری بارگاہ میںحاضر ہوں، مجھے تیرے سوا کسی سے غرض نہیں، مجھ میں جو برائیاں ہیں انہیں معاف فرما کر مجھے قبول کر لے، میرے گناہ معاف کردے، مجھ سمیت تمام حاضرین پر اپنا کرم وفضل فرما اور ہمیں اپنے جود وکرم سے مالا مال کردے، یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں، اگر تو مجھے قبول نہیں کرے گا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔ اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔

اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے ،رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مُرِّی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا، تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ ’’تو اس نے جواب دیا: ’’مجھے حضرت صالح مُرِّی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔‘‘ (کتاب التوابین ،توبۃ فتی من الازددان ، ص ۲۵۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخ اور سیرت ِبزرگان دین کی کتب کے مطالعے سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ کئی ایسی بزرگ ہستیاں جن کا ذکرکرنا سعادت مندی سمجھا جاتا ہے، ان کے مقامِ ولایت کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہونے سے پہلے کے واقعات کو بطورِ درس ونصیحت متعدد کتب میں بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان سے درس حاصل کریں اور اپنی قبر وآخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائیں،انہیں اولیا ء اللہ میں حضرت سیّدناابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃاللہ الاکرم ،حضرت سیّدنابشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ،حضرت سیّدنا فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ اورحضرت سیّدنامالک بن دینا ر علیہ رحمۃاللہ الغفار جیسی بلندپایہ ہستیاں بھی شامل ہیں۔ شیخ طریقت ، امیراہلسنّت دامت برکا تہم العالیہ نے حضرت مالک بن دینار علیہ رحمۃاللہ الغفارکی زندگی میں برپا ہونے والے ایمان افروز واقعے کواپنے رسالے ’’نیک بننے کا نسخہ ‘ ‘ میں نقل فرمایاہے، جس کی برکت سے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب بر پا ہوگیا ، راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے صراط مستقیم کے مسافر بن گئے اوربے شمار لوگوں کے دلوں میں خوف خدااور عشق مصطفی کی شمع روشن ہوگئی۔ اسی طرح آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ لو گ یاد الہٰی سے یکسر غافل ہوتے چلے جارہے ہیں، دنیا ہی کے حصول کو مقصد حیات سمجھ بیٹھے ہیں ،اسی کی طلب میں اپنی زندگی کے انمول لمحات کو ضائع کررہے ہیں اور فیشن پرستی کے طوفان نے امت مسلمہ کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے ایسے نازک حالات میں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَل ا میر اہلسنّت دامت بر کا تہم العالیہ نے بزرگان دین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیکی کی دعوت عام کرنے کابیڑا اٹھایااور آپ نے تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے مختلف شعبہ جات نے آپ سے تربیت پاکراصلاحِ اُمّت کا مُقَدَّس بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ آپ کے پرسوز بیانات،عمل وکردار اور ان مختلف شعبہ جات کی شب و روز کوششوں سے معصیت و گمراہی کے سیاہ بادل چھٹ رہے ہیں اور سنّتوں کااُجالا ہو رہا ہے۔ ا میر اہلسنّت دامت بر کا تہم العالیہ کی اصلاحی سرگرمیوں نے لاکھوں لاکھ مسلمانوں کی زندگیوںمیں مدنی انقلاب بر پا کردیا، ان کی بگڑی حالتیں سنورگئیں، انہیں صوم و صلوٰۃ کی پابندی نصیب ہوگئی اور ا ن کی گناہوں کی عادت چھوٹ گئی، یا انہیں قتل و غارت گری، لوٹ مار، چوری چکاری سے توبہ نصیب ہوگئی۔ اسلامی بھائی وقتافوقتا اپنی زندگیوں میں رونما ہونے والی تبدلیوں کے واقعا ت کو دیگر مسلمانوں کی ا صلاح کے جذبے کے تحت دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مر کز فیضان مدینہ میں ارسال کرتے رہتے ہیں جس کے پیش نظرمجلس المدینۃالعلمیہ کے تحت ایک ’’ شعبہ امیرِ اہلسنّت‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں ان موصول ہونے والے واقعات کو بزرگان دین کی پیروی کرتے ہوئے عبرت کے لیے نوک پلک سنوار کر رسالے کی صورت میں شائع کرنے کااہتمام کیا جاتا ہے ، اب تک سینکڑوں اسلامی بھائیوں کی زندگیوں میں بر پا ہونے والے انقلاب کی مدنی بہاریں شائع ہوچکی ہیں اور بہت سی مرتب ہونے کے مراحل میں ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بدولت بھی کئی نوجوانوں کی زندگیوں میں مدنی انقلاب بر پا ہورہا ہے۔ اس طرح کی بہت سی بہاریں موصول ہوتی رہتی ہیں کہ معاشرے کے کئی نوجوانوں نے جب کوئی مدنی بہار سنی یاپڑھییا مدنی چینل پر دیکھی تو انہوں نے گناہوں بھرے ماحول کو چھوڑا اور دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مدنی بہاریں بھی بہارلارہی ہیں آئییَ بہاروں کی اہمیت وافادیت پر ایک ایسی ہی مدنی بہارملاحظہ فرمائیے

ایک نومسلم اسلامی بھائی (سابقہ آتش پرست ) جہانگیر عطاری کے بیان کا لُبّ لُباب ہے کہ دامنِ اسلام میں آنے سے قبل میں فلم انڈسٹری سے وابستہ تھااگر چہ میں مدنی چینل پر شیخ طریقت ،امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت بر کا تہم العالیہ کے سنّتوں بھرے بیانات اور مدنی مذاکروں کی برکت سے مسلمان ہوچکا تھامگراداکاری کی گناہوں بھری دنیا چھوڑنے میں سخت آزمائش کا سامنا تھا، فقر وفاقہ اور بے روزگا ری کے خیالات مجھے پریشان کیے ہوئے تھے مگر جب میں نے سابقہ گلوکار موجودہ ثناخوانِ رسول جنید شیخ عطاری (جن کی مدنی بہار شیخ طریقت امیر اہلسنّت دامت بر کا تہم العالیہ نے اپنے رسالہ’’ قبر کی پہلی رات‘‘ میں بھی ذکر فرمائی ہے )ان کے تأثرات مدنی چینل پر دیکھ کر مجھے بہت حوصلہ ملا یہاں تک کہ میری زبان پر جاری ہو گیاکہ ’’جب یہ بدل سکتا ہے تو میں کیوں نہیں ‘‘ اور میں نے فلم انڈسٹری کو تین طلاقیں دے دیں اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا سبز عمامے کا تاج سجالیااور داڑھی شریف سے چہرہ روشن ومنور لیا ،مدنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادم تحریر دعوت اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشاں ہوں۔اب مدنی ماحول سے دور اسلامی بھائیوں سے کہتا ہوں’’ جب میں بدل سکتا ہوں تو آپ کیوں نہیں؟‘‘لہٰذا سب مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ مدنی بہار کی وجہ سے ایک نومسلم اداکاراسلامی بھائی کی زندگی میں عمل کی کس طرح بہار آئی اور دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر سنّتوں بھری زندگی گزارنے کی سعادت حاصل کرنے لگے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس طرح کی بہت سی مدنی بہاریں ہیں ،واقعی کس قدر خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی جن کی زندگیوں میں برپا ہونے والے واقعات کسی مسلمان کی اصلاح کا سبب بن جائیں ۔آپ بھی ہمت کیجیے اور شیطان کے وارکو ناکام بناتے ہوئے اپنی زندگی میں رونما ہونے والی مدنی بہار لکھ کر شعبۂ مدنی بہارکو ارسال فرمائیں تاکہ آپ کی بہار کسی رسالے کی زینت بنے، کیا بعید اگرآپ کی بہار کو پڑھ یاسن کر کسی مسلمان کا دل چوٹ کھاگیا اور وہ دعوت اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہوکر قراٰن وسنّت کی راہ پر گامزن ہوگیاتو جہاں اس کی اپنی قبر وآخرت بہتر ہوگی وہیں آپ کے لیے بھی ایک صدقہ جاریہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ ان شآء اللہ عَزَّوَجَلَّ

مدَنی بہاروں میں گناہوں کا تذکرہ

یہ ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ کسی بھی چیز کی مکمل اہمیّت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کی اصل اور ماضی کی صورتحال کو پیشِ نظر رکھ کر اس کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے، بظاہر پکی ہوئی روٹی ہمیں معمولی معلوم ہوتی ہے مگر جب ہم بالیوں سے گندم کے نکلنے، کسان کے پاس سے چکی میں پسنے اور دکاندار سے خرید کر آٹا گوندھنے کے عمل سے لے کر چولھے پر پکنے تک کے عمل تک کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کی اہمیّت کا اندازہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایسے اشخاص جو اپنی توبہ سے قبل مختلف گناہوں میں مبتلا تھے اور بعد میں اپنی عبادات و ریاضات کے ذریعے ولایت کے درجے پر فائز ہوئے تو ایسے لوگوں کے احوال سیرت نگاروں نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ بیان کیے ہیں تاکہ ان کی زندگیوں میں آنے والے مدَنی انقلاب کی صحیح اہمیت اُجاگر ہوسکے اور ہدایتِ ربّانی کی وقعت کا اندازہ ہوسکے۔ اور اس بات کا علم ہوسکے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کے آگے گناہ خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہو کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ مدَنی بہاریں بیان کرنے میں مقصود کسی کے گناہوں کا پرچار نہیں ہوتا بلکہ ان کی زندگی میں آنے والے مدَنی انقلاب کے بیان کے ذریعے عام مسلمانوں کو بھی سنتوں بھری زندگی گزارنے کی دعوت دینا مقصود ہوتا ہے۔ تاکہ لوگ ان گناہوں سے دور اور مدنی ماحول سے قریب ہو جائیں نیز ایسے لوگ بھی اپنی اصلاح کی کوشش کریں کہ جو سمجھتے ہیں کہ شاید میں تو سدھر ہی نہیں سکتا۔

مدَنی بہاریں لکھنے میں احتیاطیں

مدَنی بہاریں لکھنا اور لکھوانا ایک اہم کام ہے لہٰذا اس میں بہت سی باتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ بے احتیاطی کی صورت میں اُلٹا گناہ میں پڑنے اور جھوٹ کی آفت میں پھنسنے کا قوی اندیشہ ہے جیسے
  • اپنے سابقہ گناہوں کو بڑ ھا چڑھا کر بیان کرنا
  • کسی فردِ مُعَیَّن جیسے ماں باپ، بھائی بہن وغیرہ کی غیبت کرنا
  • اپنی کسی نازیبا عادت کوغیر مہذَّب انداز میں پیش کرنا
  • کسی پر الزام تراشیاں کرنا
  • اپنے گھریلو مسائل کو بلاوجہ بیان کرنا
  • غیر ضروری چیزوں میں جا پڑنا وغیرہ
یہ چیزیں نہ تو مطلوب ہیں اور نہ ہی ان سے کسی شے کا حصول ، پھر مدَنی بہاروں سے جو مقصود ہے اس سے کوسوں دور، لہٰذا مذکورہ چیزوں کے بیان سے اجتناب برتنا ضروری ہے۔اسی طرح جب اپنی زندگی میں رونما ہونے والے مدَنی انقلاب کو بیان کریں تب بھی کچھ باتوں کا خیال رکھیں مثلاً
  • اپنی نیکیوں میں بے جا مبالغے سے بچیں
  • کسی فرد کے مقابلے میں اپنی فوقیت کو ظاہر کرنے اورخود اپنی تعریف کرنے سے اجتناب کیجئے۔
  • اس مثبت تبدیلی میں اپنے ذاتی کمال کے بجائے مددِ الٰہی کو کار فرما سمجھئے۔
  • بہت کچھ پانے اور کثیر خدمتِ دین بجا لانے کے باوجود خوفِ خُدا رکھتے ہوئے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے ان اعمالِ صالحہ کی قبولیت کی دعاکیجئے اور بہر صورت عاجزی و انکساری کے دامن کو تھامے رہئے۔
  • اور جو مقام و مرتبہ اور اسلامی منصب و ذمہ داری یا کسی نعمتِ خدا وندی کو بیان کریں تو تحدیثِ نعمت کی نیّت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیجئے تاکہ ریاکاری اور حبِّ جاہ کی تباہ کاری سے حفاظت ہو سکے۔
دعوتِ اسلامی کے مدَنی مقصد ‘‘کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے’’ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنی بہار لکھ کر جمع کروائیے اور دو جہاں کی بھلائیوں کا اپنے آپ کو حقدار بنائے۔ آپ کی رہنمائی کے لئے ذیل میں کچھ نیتیں پیش کی جارہی ہیں تاکہ ثواب کا عظیم ذخیرہ حصہ میں آسکے۔

مدنی بہاریں بیان کرنے کی اچھی اچھی نیتیں

  • مدنی بہاریں چونکہ نیکی کی دعوت کاذریعہ ہیں لہٰذا میں اپنی مدنی بہار کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کروں گا
  • دوسرں کی ترغیب و تحریص کا سامان کروں گا
  • اچھے ماحول (جو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک نعمت ہے) کی برکتوں کا پرچار کروں گا ۔
  • شہرت اور حبِّ جاہ سے بچتے ہوئے نیکیوں کا تذکرہ صرف تحدیثِ نعمت کے لئے کروں گا ۔
  • مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے کے لئے ان کی تباہ کاریوں کا تذکرہ کروں گا ۔
  • مدنی بہار کے ذریعے دعوتِ اسلامی کے جملہ مدنی کاموں (مثلاً مدنی چینل، مدنی مذاکرہ، درسِ فیضانِ سنّت، سنّتوں بھرے اصلاحی بیانات وغیرہ) کی ترغیب کا سامان بنوں گا ۔
  • سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت، مدنی قافلے میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کا ذہن دینے کی کوشش کروں گا
  • مدنی بہار بیان کرتے ہوئے دوسرے مسلمانوں کی غیبت سے بچوں گا ۔
  • ضول گوئی اور بے کار طوالت سے گریز کروں گا۔
  • جھوٹے مبالغے سے کنارہ کشی کروں گا۔
  • کوئی ایسی بات ذکر نہیں کروں گا جس سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بدنامی ہوتی ہو۔
  • دوسروں کے عیب نہیں اچھالوں گا۔