HOW TO SHOP

1 Login or create new account.
2 Review your order.
3 Payment & FREE shipment

If you still have problems, please let us know, by sending an email to support@website.com . Thank you!

SHOWROOM HOURS

Mon-Fri 9:00AM - 6:00AM
Sat - 9:00AM-5:00PM
Sundays by appointment only!

حسنؔ حج کرلیا کعبے سے آنکھوں نے ضِیا پائی

چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رَستہ دل کے اندرہے

ذوق بڑھانے کا طریقہ

مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کا مقدّس سفرآپ کومبارَک ہو! راستے بھر دُرُود وسلام کی کثرت کیجئے اورنعتیہ اَشعار پڑھتے رہئے یا ہوسکے تو ٹیپ ریکارڈر پرخوش اِلحان نعت خوانوں کے کیسٹ سنتے رہئے کہ ان شآء اللہ عزوجل اس طرح ترقّیِ ذوق کے اسباب ہوںگے۔ مدینۂ پاک کی عَظَمت ورِفعَت کا تَصَوُّر باندھتے رہئے، اس کے فضائل پر غور کرتے رہئے۔اِس سے بھی ان شاءاللہ عزوجل آپ کا شوق مزید بڑھے گا

مدینہ کتنی دیر میں آئے گا:

مکّۂ مکرَّمہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کا فاصِلہ تقریباً 425کِلومیٹر ہے جسے عام دنوں میں بس تقریباً 5گھنٹے میں طے کرلیتی ہے مگر حج کے دنوں میں بعض مصلَحتوں کی بِنا پر رفتا رکم رکھی جاتی اور پہنچنے میں بس تقریباً 8تا10گھنٹے لے لیتی ہے۔ ’’ مرکزِ استِقبالِ حُجّاج ‘‘ پر بس رُکتی ہے، یہاںپاسپورٹ کا اِندِراج ہوتا ہے اور پاسپورٹ رکھ کر ایک کارڈ جاری کیا جاتا ہے جسے حاجی نے سنبھال کررکھنا ہوتا ہے، یہاں کی کاروائی میں بسا اوقات کئی گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں،صبر کا پھل میٹھا ہے۔عَنقریب آپ ان شآء اللہ عزوجل میٹھے مدینے کے گلی کوچوں کے جلوے لوٹیں گے ، جلدہی آپ گنبد خضرا کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔جُوں ہی دُور سیمسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف زادھا اللہ شرفا وتعظیما کے مِینارِ نور بار پُروقار پر نگاہ پڑیگی، سبز سبز گنبد نظر آئیگا ان شآء اللہ عزوجل آپ کے قلب میں ہَلچَل مچ جائیگی اور آنکھوں سے بے اِختیار آنسو چھلک پڑیں گے۔

سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے

صائم ؔکمالِ ضَبط کی کوشش تو کی مگر

پَلکوں کا حلقہ توڑ کر آنسو نکل گئے

ہَوائے مدینہ سے آپ کے مشامِ دماغ مُعطّرہورہے ہوں گے اور آپ اپنی رُوح میں تازَگی محسوس کر رہے ہوں گے، ہوسکے تو ننگے پاؤں روتے ہوئے مدینۂ منوَّرہ زادھا اللہ شرفا وتعظیما کی فَضاؤں میں داخِل ہوں۔

جُوتے اُتار لو چلو باہوش باادب

دیکھو مدینے کا حسیں گلزار آگیا

ننگے پاؤں رہنے کی قرانی دلیل

اوریہاں ننگے پاؤں رَہنا کوئی خِلافِ شَرع فعل بھی نہیں بلکہ مقدَّس سَر زمین کا سَراسَر ادب ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ علی ٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ربّ عزوجل سے ہم کلامی کا شَرَف حاصل کیا تواللہ عزوجل نے ارشادفرمایا:

umrah

ترجَمۂ کنزالایمان:تو اپنے جُوتے اُتار ڈال ، بیشک تُو پاک جنگل طُویٰ میں ہے۔

سبحٰن اللہ عزوجل !جب طورِ سینا کی مقدّس وادی میں سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ علی ٰ نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو خود اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جُوتے اُتار لینے کا حکم فرمائے تو مدینہ تو پھر مدینہ ہے، یہاں اگر ننگے پاؤں رہا جائے تو کیوں سَعادت کی بات نہ ہوگی!کروڑوں مالکیوں کے پیشوا اور مشہور عاشقِ رسول حضرتِ سیِّدُنا امام مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۂ پاک زادھا اللہ شرفا وتعظیما کی گلیوں میں ننگے پیر چلا کرتے تھے۔ الطبقاتُ الکُبریٰ لِلشَّعرانی الجزء الاول ص ۷۶ )آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ مدینۂ منوَّرہزادھا اللہ شرفا وتعظیما میں کبھی گھوڑے پر سُوار نہ ہوتے، فرماتے ہیں:’’ مجھے اللہ عزوجل سے حیا آتی ہے کہ اُس مبارَک زمین کواپنے گھوڑے کے قدموں تلے رَوندوں جس میں اُس کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم موجودہیں ۔ (یعنی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا روضۂ انور ہے)(اِحیائُ العلوم ج۱ ص ۴۸ )

اے خاکِ مدینہ!تُو ہی بتا میں کیسے پاؤں رکھوں یہاں

تُو خاکِ پا سرکار کی ہے آنکھوں سے لگائی جاتی ہے

حاضری کی تیاری:

حاضِری روضۂ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے مکان وغیرہ کا بندوبست کر لیجئے ، حاجت ہو توکھا پی لیجئے ، اَلغَرَض ہر وہ بات جو خُشُوع وخُضُوع میں مانِع ہو اُس سے فارِغ ہو لیجئے۔اب تازہ وُضُو کیجئے اِس میں مسواک ضَرور ہو بلکہ بہتر یہ ہے کہ غُسل کر لیجئے ، دُھلے ہوئے کپڑے بلکہ ہو سکے تو نیا سفید لباس ، نیا عمامہ شریف وغیرہ زیبِ تن کیجئے ، سُرمہ اورخوشبو لگالیجئے اور مُشک افضل ہے ، اب روتے ہوئے دَربار کی طرف بڑھئے۔(بہارِ شریعت ج۱ ص۱۲۲۳)

اے لیجئے!سبز گنبد آگیا:

اے لیجئے!وہ سبز سبز گنبد جسے آپ نے تصویروں میں دیکھا تھا، خیالوں میں چُوما تھا اب سَچ مُچ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے

اَشکوں کے موتی اب نِچھاوَر زائرو کرو

وہ سبز گنبدمَنبَعِ اَنوار آگیا

اب سَرجھکائے باادب پڑھتے ہوئے دُرُود

روتے ہوئے آگے بڑھو دَربار آ گیا

!ہاں!یہ وُہی سبز گنبد ہے جس کے دیدار کے لئے عاشقانِ رسول کے دِل بے قرار رہتے اور آنکھیں اَشکبار ہوجایا کرتی ہیں، خُدا عزوجل کی قسم !رَوْضَۂ رَسَولُ اللّٰہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عظیم جگہ دُنیا کے کسی مَقام میں تو کُجا جنَّت میں بھی نہیں ہے۔

فِردوس کی بُلندی بھی چُھوسکے نہ اِس کو

خُلدِ بریں سے اُونچا میٹھے نبی کا روضہ

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُالمدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’وسائلِ بخشش ‘‘ کے صَفحَہ 298کے حاشیے میں ہے:روضہ کے لفظی معنی ہیں: باغ ۔
شعر میں روضہ سے مُراد وہ حصۂ زمین ہے جس پر رَحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا جسمِ معظّم تشریف فرما ہے ۔ اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فُقہائے کرامرحمہم اللہ السلام فرماتے ہیں: محبوبِ داور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ انور سے زمین کا جو حصہ لگا ہوا ہے ، وہ کعبہ شریف سے بلکہ عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔ (دُرِّمُختَارج۴ ص ۶۲)

ہوسکے تو باب البقیع سے حاضر ہوں

اب سَراپا ادب و ہوش بنے، آنسو بہاتے یا رونا نہ آئے تو کم از کم رونے جیسی صورت بنائے بابِ بقیع پر حاضِر ہوں۔’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘عرض کر کے ذرا ٹھہر جایئے۔ گویا سرکارِ ذِی وَقارؔصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاہی دَربار میں حاضِری کی اِجازت مانگ رہے ہیں۔ اب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم کہہ کر اپنا سیدھا قَدَم مسجِد شریف میں رکھئے اور ہمہ تن ادب ہو کر داخلِ مسجدِ نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰ ٰۃ والسلام ہوں اِس وَقت جو تعظیم و ادب فرض ہے وہ ہر عاشقِ رسول کا دِل جانتا ہے۔ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زَبان، دِل سب خَیالِ غَیر سے پاک کیجئے اور روتے ہوئے آگے بڑھئے، نہ اردگرد نظریں گھُمایئے، نہ ہی مسجِد کے نَقش ونِگار دیکھئے، بس ایک ہی تڑپ، ایک ہی لگن اورایک ہی خَیال ہو کہ بھاگا ہوا مجرِم اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پنا ہ میں پیش ہونے کے لئے چلا ہے۔

فچلا ہوں ایک مجرِم کی طرح میں جانِبِ آقا

نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ

نماز شکرانہ:

اب اگر مکروہ وَقْت نہ ہو اور غَلَبۂ شوق مُہْلَت دے تو دو دو رَکعَت تَحِیَّۃُ الْمَسْجِدو شکرانۂ بارگاہِ اَقدس ادا کیجئے، پہلی رَکْعَت میں الحمد شریف کے بعدumrahاور دوسری میں الحمد شریف کے بعدقُلْ ھُوَاللّٰہُ شریف پڑھئے۔

umrah
سنہری جالیوں کے روبرو

اب ادب وشوق میں ڈوبے، گردن جُھکائے، آنکھیں نیچی کئے، رونے والی صورت بنائے بلکہ خود کو بزور رونے پر لاتے، آنسو بہاتے ، تھرتھراتے ، کپکپاتے ، گناہوں کی نَدامت سے پسینہ پسینہ ہوتے، سرکارِنامدارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فَضل وکَرَم کی اُمّید رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قَدَمَینِ شَرِیفَین کی طرف سے سُنَہر ی جالیوں کے رُوبَرُو مواجَھَہ(مُوا۔جَ۔ھَہْ) شریف میں( یعنی چِہرۂ مبارَک کے سامنے) حاضِر ہوں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مزارِ پُر اَنوار میں رُو بَقِبلہ جلوہ اَفروز ہیں، مُبارَک قدموں کی طرف سے حاضِر ہوں گے تو سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نِگاہِ بے کس پناہ براہِ راست آپ کی طرف ہوگی اور یہ بات آپ کیلئے دونوں جہاں میں کافی ہے۔ وَالحمدُللّٰہ ۔(بہارِ شریعت ج۱ص۱۲۲۴)


This is just a simple notice. Everything is in order and this is a simple link.

SIGN IN YOUR ACCOUNT TO HAVE ACCESS TO DIFFERENT FEATURES

CREATE ACCOUNT

FORGOT YOUR DETAILS?

TOP